نماز جنازہ مین اونچی آواز سے قرات کرنا
بیٹا: ابا جی!
باپ: جی بیٹا!
بیٹا:ابا جی !المغنی لابن قدامہ کا شمار معتبر کتا بوں میں ہے؟
باپ:جی بیٹا! فقہ حنبلی کی یہ معتبر اور مشہور کتاب ہے ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ جو امام سنت ہین انہی کے مسائل فقہیہ کو اس کتاب میں بهت تفصیل سے جمع کیا گیا ہے . ہمارے والدنا شیخ ابن باز نے اپنے وقت میں اپنے ادارہ سے بہت اہتمام سے اس کو شائع کرایا تها .
بیٹا: ابا جی! اس کتاب میں یہ عبارت میری نگاہ سے گذری ہے.
ویسر القراءة والدعاء فی صلوة الجماعة لا نعلم بین اهل العلم فیه خلافا (ج 1 ص 486)
ذرا اس کا ترجمہ کر دین .
باپ:بیٹا! عبارت تو بهت صاف ہے، ترجمہ یہ ہے کہ نماز جنازہ میں قرات آہستہ کی جائیگی اور دعا بهی آہستہ پڑهی جائیگی. اہل علم کے درمیان اس میں کوئ اختلاف ہو ، ہمیں اس کا پتہ نہیں ہے.
بیٹا:ابا جی! اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں جو کچھ پڑها جائےگا آہستہ پڑها جائےگا، یہ اجماعی مسئلہ ہے ، تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے .
باپ:جی بیٹا! البتہ شیعہ اور روافض نماز جنازہ میں اونچی آواز سے پڑهتے ہین ، ہم لوگ ان کو اہل علم میں سے شمار نہیں کرتے ہین .
بیٹا: مگر ابا جی! اب تو هماری جماعت کے علماء بهی اہل علم کے خلاف شیعوں اور رافضیوں کے مذہب کے مطابق فتوی دے رہے ہین ، اب ہماری جماعت کے علماء کا فتوی یہ ہے کہ جنازہ کی نماز بآواز بلند پڑهی جائیگی ، فتاوی علماۓ اہل حدیث میں لکها ہے؛
دلائل کے لحاظ سے بلندآواز کے ساتھ جنازہ پڑهنا افضل اور قوی ہے (ج 5 ص 152)
اور فتاوی ثنائیہ میں مولانا حافظ احمد پٹوی لکهتے ہین:
جنازہ کی نماز میں سورہ فاتحہ اور اس کے بعد سورہ بآواز بلند پڑهنا جائز بلکہ سنت ہے . (ج 2ص56)
باپ: اب اگر همارے علماء کا اجتہاد بدل گیا ہو تو میں کہ نہیں سکتا ، مگر ہمارے پہلے کے تمام علماء آہستہ آواز ہی سے نماز جنازہ پڑها کرتے تهے .
بیٹا : کیا هماری جماعت میں شیعیت اور رافضیت کے جراثیم پیدا ہو گئے ہیں ابا جی!
باپ: پتہ نہیں بیٹا !
(خمار سلفیت ص 322)
تحفظ سنت کرناٹک
الہند
🍃🍃🍃
بیٹا: ابا جی!
باپ: جی بیٹا!
بیٹا:ابا جی !المغنی لابن قدامہ کا شمار معتبر کتا بوں میں ہے؟
باپ:جی بیٹا! فقہ حنبلی کی یہ معتبر اور مشہور کتاب ہے ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ جو امام سنت ہین انہی کے مسائل فقہیہ کو اس کتاب میں بهت تفصیل سے جمع کیا گیا ہے . ہمارے والدنا شیخ ابن باز نے اپنے وقت میں اپنے ادارہ سے بہت اہتمام سے اس کو شائع کرایا تها .
بیٹا: ابا جی! اس کتاب میں یہ عبارت میری نگاہ سے گذری ہے.
ویسر القراءة والدعاء فی صلوة الجماعة لا نعلم بین اهل العلم فیه خلافا (ج 1 ص 486)
ذرا اس کا ترجمہ کر دین .
باپ:بیٹا! عبارت تو بهت صاف ہے، ترجمہ یہ ہے کہ نماز جنازہ میں قرات آہستہ کی جائیگی اور دعا بهی آہستہ پڑهی جائیگی. اہل علم کے درمیان اس میں کوئ اختلاف ہو ، ہمیں اس کا پتہ نہیں ہے.
بیٹا:ابا جی! اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں جو کچھ پڑها جائےگا آہستہ پڑها جائےگا، یہ اجماعی مسئلہ ہے ، تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے .
باپ:جی بیٹا! البتہ شیعہ اور روافض نماز جنازہ میں اونچی آواز سے پڑهتے ہین ، ہم لوگ ان کو اہل علم میں سے شمار نہیں کرتے ہین .
بیٹا: مگر ابا جی! اب تو هماری جماعت کے علماء بهی اہل علم کے خلاف شیعوں اور رافضیوں کے مذہب کے مطابق فتوی دے رہے ہین ، اب ہماری جماعت کے علماء کا فتوی یہ ہے کہ جنازہ کی نماز بآواز بلند پڑهی جائیگی ، فتاوی علماۓ اہل حدیث میں لکها ہے؛
دلائل کے لحاظ سے بلندآواز کے ساتھ جنازہ پڑهنا افضل اور قوی ہے (ج 5 ص 152)
اور فتاوی ثنائیہ میں مولانا حافظ احمد پٹوی لکهتے ہین:
جنازہ کی نماز میں سورہ فاتحہ اور اس کے بعد سورہ بآواز بلند پڑهنا جائز بلکہ سنت ہے . (ج 2ص56)
باپ: اب اگر همارے علماء کا اجتہاد بدل گیا ہو تو میں کہ نہیں سکتا ، مگر ہمارے پہلے کے تمام علماء آہستہ آواز ہی سے نماز جنازہ پڑها کرتے تهے .
بیٹا : کیا هماری جماعت میں شیعیت اور رافضیت کے جراثیم پیدا ہو گئے ہیں ابا جی!
باپ: پتہ نہیں بیٹا !
(خمار سلفیت ص 322)
تحفظ سنت کرناٹک
الہند
🍃🍃🍃
No comments:
Post a Comment