Imam Abu Haneefa Rah

Monday, 17 October 2016

غیر مسلم کے یہاں کھانا

                         ایک غیر مسلم دوست اپنے تیوہار دسہره میں پکایا ہوا پکوان دے رہا ہے پوجا وغیره بهی کیا ہوا ہے.

کیا اسکو لینا یا کهانا درست ہے؟ ؟
مگر وه غیر مسلم دوست کہہ رہا ہے کہ مجهے معلوم ہے کہ تم مسلمان ہو اور پوجا کا نہیں کهاتے ہو اسلئے یہ دوسرے دن بنایاہوا ہے تاکہ میرے مسلمان دوستوں کو دے سکوں.

برائے مہربانی جواب مرحمت فرمائیں.
الجواب وباللہ التوفیق
جس کھانے پر پو جا کی گئی ہو اس کا کھانا حرام ہے
اور جو دوسرے دن کھانا بنا ہے. جس پر پوجا نہین کی گئی ہے اس کو بھی نہ کھانا بھتر ہے
ہان کوئ مصلحت پیش نظر ہو تو کھا سکتے ہین اس کھانے کو حرام نہین کہا جائیگا گنجائش ہے
ولو اھدی لمسلم ولم یرد تعظیم الیوم. بل جری علی عادہ الناس لا یکفر وینبغی ان یفعله قبلہ او بعدہ لنفیا للمشبھه (الدر المختار)
ولاباس بالذھاب الی ضیافه اھل الذمه (الفتاوی العالمکیریه
بحوالہ
فتاوی محمودیہ جلد 18 ص 34
عیسی زاہد قاسمی

ثنا پڑھنے کی دلیل

14:48                         السلام عليكم ورحمة الله وبركاته. مفتي صاحب. رکعت باندھ کے ثناء جو پڑہتے ہیں. کس حدیث میں ہے. بتائیں. کرم ہوگا

الجواب وباللہ التوفیق

ترمذی مین ہے
عن ابی سعید ن الخدری قال کان رسول اﷲﷺ اذا قام الی الصلوٰۃ باللیل کبر ثم یقول سبحانک اللہم وبحمدک وتبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک
دوسری جگہ ہے

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا قالت کان النبیﷺ اذا افتح الصلوٰۃ قال سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک

(جامع الترمذی ج اول ، ص ۵۸،

امام ترمذی کے علاوہ علامہ ملا علی  قاری اور دیگر محدثین کرام رحمہم اﷲ نے بھی ان دونوں روایتوں کو ذکر کیا ہے جس میں واضح طور پر یہ موجود ہے کہ ابو سعید خدری اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتے ہیں کہ آنحضورﷺ جب افتتاح صلوٰۃ فرماتے سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک و تعالیٰ جدک ولا الہ غیرک پڑھا کرتے تھے

دیکھین ابو داود کتاب الصلوۃ باب من رای الاستفتاح بسبحانک اللھم الخ

من کلام المحقق عبد القادر الارناوط:قال الحافظ ابن حجر فی تخریج الاذکا ر للنووی بعد تخریجه الحدیث من طرق "حدث حسن"
وقال المحقق: اقول: وصححه الحاکم ووافقه الذھبی ( المستدرک 1\235
وفیه قال الحاکم : صحیح اسنادہ ولم یخرجاہ وقال الذھبی : علی شرطھما.
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ عیسی زاہد قاسمی

اعضاے وضو سے جو پانی کی چھینٹین کپڑون پر گرین ان سے کپڑے ناپاک نہین ہو ن گے

وضوکا گرتا ہوا پانی اگر بدن پر اورکپڑوں پرلگے توکیا حکم ہے
الجواب وباللہ التوفیق
اعضاے وضو سے جو پانی کی چھینٹین کپڑون پر گرین ان سے کپڑے ناپاک نہین ہو ن گے
واللہ اعلم
فتاوی محمودیہ جلد پنجم ص 253
کتبہ عیسی زاہد قاسمی

بینک سے قرض لینا

                         بینک سے کاروبار کے لیے قرض

السلام علیکم ایک شخص کاروبار کے لئے بینک سے قرض لینا چاہتا ہے اس کے لئے کیا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق
وعلیکم السلام ورحمت اللہ
بینک سے قرض لینے کی صورت مین واپسی مین سود دینا لازم آتا ہے اس لیے بینک سے قرض لینا جائز نہین ہے 
حدیث مین سخت ممانعت آئ ہے 
عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء 
مسلم شریف باب لعن آکل الربا وموکلہ 
بحوالہ فتاوی قاسمیہ جلد 21 ص 60
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ عیسی زاہد قاسمی