Imam Abu Haneefa Rah

Tuesday, 21 June 2016

ھدایہ کے مسائل اور ان کا جواب محترم مولانا محمد ابو بکر صاحب غازیپوری دامت برکاتہم

ھدایہ کے مسائل اور ان کا جواب

محترم مولانا محمد ابو بکر صاحب غازیپوری دامت برکاتہم

السلام علیکم و رحمة اﷲ و برکاتہ،

الحمد ﷲ و کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی

گذارش خدمت میں یہ ہے کہ ریاض سعودی عرب سے ایک پمفلٹ مولانا انظر صاحب قاسمی بنگلور کے نام آیا ہے، اس پمفلٹ کو اور اس جیسے دوسرے پمفلٹ کو غیر مقلدین ریاض اور سعودی عرب کے دوسرے شہروں میں شائع کر کے عوام میں فتنہ پھیلاتے ہیں اور فقہ حنفی کے خلاف جذبات بھڑکاتے ہیں، مولانا انظر صاحب نے گذارش کی ہے کہ میں اس پمفلٹ کو آپ کے پاس بھیج دو آپ ان مسا ئل کے بارے میں روشنی ڈالیں تاکہ آپکاجو اب ریا ض بھیج دیا جائے نیز زمزم میں بھی شائع کر دیں تاکہ عام لوگ بھی اس سے فائدہ اٹھائیں۔

والسلام

سید محمود قادری بیجا پور

زمزم !

زمزم رسالہ میں اس کا اعلان کیا جا چکا ہے کہ بلا نام یا فرضی نام سے کسی شائع کردہ تحریر کا کوئی جواب نہیں دیا جائے گا،آپ نے جو پمفلٹ بھیجا ہے اس کا حال بھی یہی ہے کہ تحریر شائع کرنے والے کو یہ ہمت نہ ہو سکی کہ اپنا نام اور پورا پتہ ذکر کرتا،ایسی بے وزن اور غیر سنجیدہ تحریر کا کیا جواب دیا جائے۔

۲- اعتراض اگر برائے اعتراض ہو تو اس کا سلسلہ ختم نہیں ہو سکتا، آپ جواب دیتے رہيں گے اور معترضین اعتراضات کرتے رہیں گے، پھر جواب دینے کا فائدہ کیا۔

۳ سوال اگر سنجیدہ ہو اور سوال کرنے کا مقصود بھی مسئلہ کو سمجھنا ہو تو اس کا جواب دیا جا سکتا ہے لیکن اگر سوالات سے مقصود محض فتنہ انگیزی ہو اور اس کا محرک خباثت نفس ہو تو اس کا جواب دینا محض وقت کا برباد کرنا ہے۔

۴ مسائل کے ساتھ اگر دلائل بھی مذکور ہوں تو مسائل پر اعتراض کرنا جہالت ہے، اہل علم دلائل کو دیکھتے ہیں، اگر کسی کو اعتراض ہی کرنا ہے تو وہ دلائل پر اعتراض کرے اور ان کی کمزوری کو واضح کرے، آج کل غیر مقلدین کا حال یہی ہے کہ چونکہ ان کا مقصد محض فتنہ انگیزی و شر انگیزی ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ مسائل کے دلائل پر اعتراض نہیں کرتے صرف مسائل ذکر کر دیتے ہیں تاکہ عوام ان مسائل کی ظاہری شکل سے پریشان ہوں، آپ کے پمفلٹ کا حال بھی یہی ہے کہ عوام کو ورغلانے اور فقہ سے نفرت دلانے کےلئے ہدایہ سے چند مسائل ذکر کر دیئے، اور ان کی شکل گھنانی بنا کر دکھلائی ان مسائل کے دلائل پر اعتراض کرنے کی معترض کو ہمت نہ ہو سکی۔

۵ اگر مسائل کے ساتھ دلائل بھی مذکور ہوں تو صرف مسائل کو ذکر کرنا اور ان کے دلائل کو ذکر نہ کرنا خباثت نفس ہے، اور صریح خباثت ہے، موجودہ وقت کے غیر مقلدین افسوس اس قسم کی خباثتوں کا ارتکاب کر کے اپنی خباثت نفس کو ظاہر کرتے ہیں، اس پمفلٹ کا حال بھی یہی ہے کہ ہدایہ سے صرف مسئلوں کو ذکر کر دیا صاحب ہدایہ نے جو عقلی و نقلی دلائل ذکر کئے ہیں ان کا کسی مسئلہ کے ضمن میں اشارہ تک نہیں ہے۔

۶ اگر کسی کا مقصود محض فتنہ انگیزی نہ ہو اور وہ دین و دیانت سے بالکل محروم نہ ہو تو وہ کتاب کا پورا مسئلہ ذکر کرے گا، مسئلہ میں کاٹ چھانٹ نہیں کرے گا، آپ کے پمفلٹ والے کا حال یہ ہےکہ ہدایہ سے مسائل تو ذکر کرتا ہے مگر دیانت سے کام نہیں لیتا، خیانت کرتا ہے، اور پورا مسئلہ نقل نہیں کرتا، خیانت کے اس ارتکاب کی وجہ سے مسئلہ کی صحیح شکل سامنے نہیں آتی۔

۷ ان مسائل پر اعتراض کرنا جو خود غیر مقلدوں کی کتابوں میں مذکور ہیں حد درجہ کی جہالت ہے، پہلے غیر مقلدوں کو اپنے گھر کی خبر لینی چاہئے، اور اپنی کتابوں کو ان مسائل سے پاک و صاف کر لینا چاہئے جو فقہ اہلحدیث میں تالیف کی گئی ہیں۔

غیر مقلدوں کی جہالت و سفاہت کا عجیب حال ہے کہ جو مسئلے خو دان کی کتابوں میں مذکور ہیں اور جن کو وہ فقہ اہلحدیث کہتے ہیں وہی مسائل اگر فقہائے احناف کی کتابوں میںبھی مذکور ہوں تو ان پر بھی وہ اعتراض کرتے ہیں، احناف دشمنی میں ان کو اس کا بھی خیال نہیں رہتا کہ اس طرح وہ خود اپنے فقہ اہلحدیث کا بھی مذاق اڑاتے ہیں اور اپنی کتابوں سے جاہل ہونےکا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

۸ مسائل شرعیہ کا مذاق اڑانا اتنا بڑا دینی جرم ہے کہ اس سے ایمان جانے کا خطرہ ہے، غیر مقلدین چونکہ ایمان سے محروم ہیں اور ان کی مسلمانی محض نام کی ہے، اس وجہ سے وہ دینی و شرعی مسائل کا مذاق اڑاتے ہیں اور وہ اس بارے میں بہت بے باک ہو چکے ہیں۔

قرآن میں ہے نساءکم حرث لکم فاتو احرثکم انی شئتم اگر کوئی بد بخت اس آیت کا مذاق بنائے تو اس کا ایمان محفوظ نہیں رہے گا۔

حدیث میں ہے۔ آنحضورﷺ حالت صوم میں ازواج کا بوسہ لیتے تھے، اگر کوئی اس کا مذاق بنائے اور آنحضورﷺ کے اس فعل پر اعتراض کرے تو اس کا ایمان جاتا رہے گا۔

بیوی اگر حالت حیض میں ہو تو مباشرت فاحشہ کے علاوہ اس کے بدن کے ہر حصہ سے تلذذ حاصل کیا جا سکتا ہے، اس کا بیان احادیث میں ہے، اگر کوئی بدبخت عورت کے بدن کے ایک ایک حصہ کا نام لے کر نبوی تعلیمات و ہدایات کو مذاق بنائے تو اس کو اپنے ایمان کی خیر منانی چاہئے۔

غرض ایسے مسائل جن کا ذکر کتاب و سنت میں ہے اور انہی کی روشنی میں ان جیسے دوسرے مسائل کو بھی فقہاءنے اپنی کتابوں میں ذکر کر کے ان کا حکم کتاب و سنت کی روشنی میں بیان کیا ہے، ان کا مذاق وہی شخص اڑائے گا جو ایمان کی دولت سے محروم ہے غیر مقلدین کا مسائل فقہیہ و شرعیہ کے ساتھ تمسخر اور مذاق اڑانے کا موجودہ انداز بتلا رہا ہے کہ وہ ایمان کی دولت سے محروم ہو چکے ہیں۔

۹ فقہ میں ان تمام مسائل سے گفتگو کی جاتی ہے جو انسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں ، اور ان کا شرعی حکم بتلایا جاتا ہے، ان میں ایسے مسائل بھی ہوتے ہیں جن کا عام حالات میں زبان پر لانا اچھا نہیں سمجھا جاتا مگر شرعی ضرورت کے تحت ان مسائل کا بھی ذکر فقہ کی کتابوں میں ہوتا ہے، اور فقہ اسلامی کی یہ عین خوبی ہے کہ وہ زندگی میں پیش آنے والے تمام مسائل کو محیط ہوتا ہے اب جن کا نفس خبیث ہوتا ہے اور جن کی سرشت زبوں ہوتی ہے وہ اپنی خباثت نفس کا اظہار کرنے کے لئے فقہ کی کتابوں سے ان مسائل کو چن چن کر جمع کر کے شائع کرتے ہیں جن کا ذکر کرنا عام حالات میں مناسب نہیں ہوتا ہے اور جاہل لوگ اس طرح مسلمانوں میں فقہ کی دشمنی میں خود اسلام دشمنی اور شریعت دشمنی کا اظہار کرتے ہیں، یہ کہنا تو درست ہے کہ اﷲ ہر چیز کا خالق ہے مگر یہ کہنا کہ کیا وہ بندر کا بھی خالق ہے سور کا بھی خالق ہے، مکھی مچھر کا بھی خالق ہے اور اس کو مذاق بنا لینا قطعاً حرام ہے، ضرورتاً تو اس کا اظہار کیا جا سکتا ہے مگر مذاق کے طور پر اس طرح کی باتیں کرنا قطعاً جائز نہ ہو گا۔

۰ ۱ پمفلٹ میں جن مسائل کو بہت مکروہ سمجھ کر ہدایہ سے نقل کیا گیا ہے وہ اور اس طرح کے مسائل زمانہ نبوت و زمانہ خیرالقرون میں واقع اور پیش آ چکے ہیں اور ان کا ذکر خو دحدیث کی کتابوں میں ہے، صحابہ کرام میں سے بعض حضرات سے زنا کا صدور ہوا، آنحضور اکرم ﷺ نے خود ان کا فیصلہ فرمایا، بعض عورتوں سے بھی زنا کا صدور ہوا، ان کا بھی فیصلہ حضورﷺ نے فرمایا۔ آنحضورﷺ کے زمانہ میں بعض، ہجڑے تھے ان کا ذکر اور ان کا حکم بھی احادیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ آنحضورﷺ کے زمانہ میں ایسا بھی واقعہ پیش آیا کہ چوپایہ کے ساتھ کسی آدمی نے اپنی خواہش پوری کی آپ نے ایسے شخص کو حکم بیان فرمایا آنحضور کو اس کی اطلاع ملی کہ کچھ لوگ اپنی بیویوں سے پاخانہ کے راستہ میں خواہش پوری کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ شخص ملعون ہے جو یہ کام کرے غرض اس کا بھی آپ نے حکم بیان فرمایا ہے خود حدیث میں اس کا ذکر ہے کہ آپ نے حالت حیض میں بیویوں سے مقام خاص کے علاوہ جگہوں پر مباشرت کرنےکی اجازت دی ہے، حضرت ابوبکر صدیق کے زمانہ میں اےک شخص کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس کے ساتھ لوگ وہ فعل کرتے ہیں جو عورتوں کے ساتھ کیا کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اﷲ عنہ نے اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے باقاعدہ صحابہ کرام کی جماعت کو بلایا اور مشورہ کیا، حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اس کو جلا کر مار ڈالا جائے۔

غرض اس طرح کے مسائل انسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں، یہ نئے مسائل نہیں ہیں کہ فقہ کی کتابوں میں ان کا ذکر بطور تفریح کر دیا گیا ہے، جب سے انسان پیدا ہوا ان جیسے مسائل سے اس کو سابقہ پیش آتا رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہ کی کتابوں میں ان تمام مسائل کے کتاب و سنت ہی کی روشنی میں شرعی حکم بیان کیا گیا ہے، اب اگر کوئی ان کا استہزا کرتا ہے تو وہ فی الاصل شریعت اسلامیہ پر حملہ آور ہوتا ہے اور فقہ اسلامی کی جامعیت پر طعنہ زن ہے۔ یہ علم کی بات نہیں ہے بے علمی اور جہالت کی بات ہے۔

آپ نے جو پمفلٹ بھیجا ہے اس کا ہرگز جواب نہیں دیتا، اس وجہ سے کہ وہ بلا نام یا فرضی نام سے ہے دوسرے یہ کہ اس میں شریعت اسلامیہ کا بھر پور مذاق اڑایا گیا ہے، تیسرے یہ کہ پمفلٹ والے نے خیانت سے کام لے کر کئی مسئلوں میں پورا مسئلہ نہیں ذکر کیا ہے چوتھے یہ ہے کہ اس نے مسا ئل پر اعترا ض کئے ہیں دلا ئل کی روشنی پر نہیں، پانچویں یہ کہ سارے مسائل کچھ مزید زیادتی کے ساتھ خود غیر مقلدین علماءکی کتابوں میں موجود ہیں تو پھر فقہ حنفیہ پر اعتراض کیا معنی رکھتا ہے، یہ مسائل اگر ان کی کتابوں میں ہوں تو فقہ اہلحدیث کے مسائل کہلائیں اور قابل تعریف پائیں اور اگر ان کا ذکر حنفی کتابوں میں ہو تو وہ قابل اعتراض و استہزا ہوں کیا یہ عقلمندوں کی بات ہے؟

مگر میں جواب اس کا اس لئے دے رہا ہوں کہ جواب نہ دینے کی شکل میں مخلصین میں سے کئی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچے گی جس کی بازگشت سعودیہ میں بھی سنائی دے گی یہ پمفلٹ سعودیہ سے آیا ہے اس وجہ سے ہمیں اپنے ریاض اور سعودیہ میں رہنے والے ہندوستانی و پاکستانی مخلصین کے جذبات کی بھی رعایت کرنی ہے۔

۱ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی نے حالت روزہ میں مشت زنی کی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹتا اس مسئلہ کو کتابچہ والے نے صاحب ہدایہ کی یہ عبارت نقل کر کے کالمستمنی بالکف علی ما قالوا اس طرح ذکر کیا ہے۔ یعنی مشت زنی کرنے والے کا روزہ نہیں ٹوٹتا حنفی فقہاءنے یہی کہا ہے گو روزہ کی حالت میں یہ کام کیا ہو۔

اس مسئلہ میں معترض نے جہالت و خیانت کے کئی گل کھلائے ہیں، پہلے تو اس نے علی ما قالوا کا ترجمہ چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ صاحب ہدایہ کی یہ عبارت بتلا رہی ہے کہ صاحب ہدایہ کے نزدیک مسئلہ اس طرح نہیں ہے بلکہ ان کے نزدیک حالت روزہ میں یہ کام روزہ کو باطل کرنے والا ہے۔ صاحب ہدایہ نے بعض دوسرے فقہاءکی یہ بات نقل کی ہے، خو داپنا اور حنفی مذہب کا مختار اور مفتی بہ مسئلہ نہیں بیان کیا ہے، ہدایہ کے حاشیہ میں خود اس پر حاشیہ لگا کر کے مسئلہ صاف کر دیا ہے، حاشیہ میں علی ماقالوا پر حاشیہ لگا کر لکھا ہے۔

عادتہ فی مثلہ افادة الضعف مع الخلاف و عامة المشائخ علی ان الا ستمتاعءمفطر و قال المصنف فی التجنیس انہ المختار۔

یعنی صاحب ہدایہ جہاں اس طرح کی عبارت لکھتے ہیں تو ان کا مقصد یہ بتلانا ہوتا ہے کہ یہ ضعیف قول ہے اور عام مشائخ احناف کا مسلک یہ ہے کہ منی نکالنا روزہ کو باطل کر دیتا ہے، تجنیس میں اسی قول کو مختار بتلایا ہے۔

آپ بتلائیں کہ اس مسئلہ میں فقہ حنفی اور علماءاحناف کی اس وضاحت کے بعد بھی اس میں کسی اعتراض کی گنجائش باقی رہ جاتی ہے۔ اندازہ لگایئے کہ غیر مقلدین کس طرح فتنہ جگا رہے ہیں اور فقہ حنفی اور فقہاءاحناف کی دشمنی میں وہ انسانیت سے کتنے دور ہو چکے ہیں، علم و دیانت سے تہی دامنی ان کا مقدر بن چکی ہے۔

اور پھرغیر مقلدین کو کس طرح جرات ہوئی کہ وہ صاحب ہدایہ پر اس مسئلہ کو لے کر اعتراض کریں، اور فقہ حنفی اور فقہائے احناف کا مذاق اڑائیں، کیا ان کو اپنے گھر کی خبر نہیں کہ فقہ اہلحدیث کا کیا مذہب ہے۔

عرف الجادی میں نواب صاحب فرماتے ہیں :

وبالجملہ استنزال منی بکف یا بچیزے از جمادات نزد دعائے حاجت مباح ست .... ....بلکہ گاہے واجب گردو.... ....در مثل ایں کار حرجے نیست بلکہ ہمچواستخراج دیگر فضلات موذیہ بدن است -ص۷ ۰ ۲

یعنی حاصل کلام یہ ہے کہ ہاتھ سے یا کسی اور جماداتی چیز سی منی نکالنے میں کوئی حرج نہیں ہے،بلکہ کبھی یہ عمل واجب ہو جاتا ہے.... اس طرح کا کام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے: منی نکالنا اسی طرح کا عمل ہے جیسے بدن کے دوسرے تکلیف دہ فضلات کا خارج کرنا۔

منی نکالنے کے بارے میں جس کے گھر کا یہ مسئلہ ہو وہ بیچارہ فقہ حنفی پر اعتراض کرے۔

۲ کتابچہ کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہدایہ میں ہے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرنے سے روزہ کا کفارہ واجب نہیں ہوتا ہے۔ پمفلٹ والے صاحب لکھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا یہی فتویٰ ہے :

پمفلٹ والے اس غیر مقلد نے اس مسئلہ میں بھی اپنی جہالت کا پورا ثبوت دیا ہے عن ابی حنیفہ کا وہ ترجمہ کرتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کا فتوی یہی ہے۔ اس جہالت کا کوئی ٹھکانہ ہے، جو لوگ فقہ کی کتابیں پڑھتے پڑھاتے ہیں، وہ تو اس کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ بھی ہے نہ کہ امام ابو حنیفہ کا یہی فتوی ہے اس علم کے بل بوتے پر فقہ حنفی پر اعتراض کا شوق ہو گیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پمفلٹ والے نے زبردست خیانت سے کام لیا ہے اور جو اصل مسئلہ ہے اس کو ذکر نہیں کیا جب کہ پورا مسئلہ اسی ہدایہ کی اسی سطر میں مذکور ہے اور اس میں صاف صاف لکھا ہے۔والاصح انھا تجب یعنی صحیح تر بات یہ ہے کہ کفارہ واجب ہو گا، اس اندھے کو یہ نظر نہیں آیا کہ جو امام ابو حنیفہ کی صحیح تر روایت اور فقہ حنفی کا اصل مسئلہ ہے، اور عن ابی حنیفة انہ لایجب الکفارة نظر آ گیا ۔

جب یہ غیر مقلدین اس طرح کی خیانتوں پر اتر آئیں تو ان کا جواب آپ کہاں کہاں دیتے پھریں گے۔

عینی میں صاف صاف لکھا ہے کہ مغنی میں جو امام ابو حنیفہ سے اس بارے میں مشہور روایت کہہ کر ذکر کیا گیا ہے صحیح نہیں امام ابو حنیفہ کی صحیح ترین روایت وہی ہے کہ اس صورت میں کفارہ واجب ہو گا -ج۳ ص۰ ۷ ۲

اب ذرہ غیر مقلدین اپنے گھر کا بھی مسئلہ سن لیں، فقہ اہلحدیث والی کتاب نزل الابرار میں لکھا ہے :

وان جامع المسافر عمدا فی سفرہ و ھو صائم اوجا مع فی غیر الفرج و انزل لذمہ القضہاءفقط۔فصل فی الکفارة ص ۱ ۳ ۲

یعنی اگر مسافر جو روزہ سے ہو اور جان بوجھ کر بھی جماع کرے تو اس پر صرف قضا واجب ہو گی کفارہ واجب نہیں ہوگا، اسی طرح جو آدمی عورت کی شرمگاہ کے علاوہ میں جماع کرے (خواہ وہ بدن کا کوئی حصہ ہو) تو اس پر بھی صرف قضا لازم آئے گی کفارہ نہیں ہے۔

جن کے گھر کا یہ مسئلہ ہو وہ فقہ حنفی پر اعتراض کریں یہ خباثت نفس اور شرارت نفس اور فتنہ انگیزی نہیں تو اور کیا ہے۔

۳ تیسرا مسئلہ یہ ذکر کیا ہی کہ مردہ عورت سے یا چوپائے سے بدفعلی کرنے سے کفارہ واجب نہیں ہوتا، انزال ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی۔

اس بیجارے کو اس مسئلہ میں اپنے گھر کی بھی خبر نہیں کہ فقہ اہلحدیث میں کیا لکھا ہے نزل الابرار میں لکھا ہے

وکذالک لا کفارة علی من جامع بھیمة او میتتہ اوصبیا اور صغیرة۔ص۱ ۳ ۳

یعنی اس پر روزہ کا کفارہ نہیں ہے جو کسی چوپایہ سے جماع کرے یا کسی مردہ عورت سے جماع کرے، یا بچے سے جماع کرے یا چھوٹی لڑکی سے جماع کرے۔

ہدایہ میں جو مسئلہ ذکر کیا ہے اس کے ساتھ صاحب ہدایہ نے دلیل بھی ذکر کی ہے اور فقہ اہلحدیث میں بلا دلیل ہی مسئلہ مذکور ہے، اس کے باوجود فقہ حنفی پر اعتراض اور اپنی فقہ اہلحدیث پر پھولوں کی بارش۔

فقہائے احناف کے یہاں کفارہ واجب اس شکل میں ہوتا ہے کہ جب جنایت اپنے حقیقی معنی اور حقیقی صورت کے ساتھ پائی جائے، غیر مقلد معترض بتلائے کہ صورت مذکورہ میں جنابت کا حقیقی معنی اور حقیقی صورت کا وجود ہے یا پھر وہ حدیث پیش کرے یا قرآن کی آیت جس سے ہدایہ کا یہ مسئلہ غلط ثابت ہو۔

۴ ایک مسئلہ یہ ذکر کیا ہے کہ ہدایہ میں ہے کہ شرمگاہ کے علاوہ میں اگر کسی نے جماع کیا تو اس پر کفارہ نہیں ہے۔

یہ مسئلہ بھی غیر مقلدین کے گھر ہی کا ہے۔ نزل الابرار فقہ اہلحدیث میں لکھا ہے۔

اوجامع فی غیر الفرج و انزل لزمہ القضاءفقط- ص۱ ۳ ۲

یعنی کسی نے شرمگاہ کے علاوہ میں جماع کیا تو صرف قضا واجب ہو گی کفارہ نہیں اگرچہ انزال ہو جائے۔

غیر مقلد معترض قرآن کی آیت یا حدیث پیش کرے جس سے یہ مسئلہ غلط ثابت ہو۔

اوپر بتلایا جا چکا ہے کہ جماع کا معنی جب معنی و صورة کامل طور پر متحقق ہو گا تب ہی کفارہ واجب ہو گا، غیر مقلد معترض بتلائے کہ صورت مذکورہ میں جماع کا معنی صورة و معنی کامل طور پر متحقق ہے، غیر مقلد معترض کے لئے بہتر یہ ہے کہ قرآن و حدیث سے اس مسئلہ کو غلط ثابت کرے۔ ان بیچاروں کو اس کا بھی پتہ نہیں ہے کہ جس طرح شبہات سے حددود مرتفع ہو جاتے ہیں اسی طرح شبہات سے کفارہ بھی، مندفع ہو جاتا ہے، کفارہ اس وقت واجب ہو گا جب جنایت کے صورة و معنی واقع ہونے میں ادنی شبہ نہ ہو، اگر ادنی شبہ بھی پایا جائے گا تو کفارہ واجب نہ ہو گا۔

۵ ایک مسئلہ یہ ذکر کیاہے کہ محرمات سے نکاح اگر کوئی کرے اور اس سے وطی بھی کرے تو اس پر حد زنا لاگو نہیں ہو گی۔ ہدایہ میں ایسا ہی لکھا ہے۔

پمفلٹ والے نے یہاں بھی سخت خیانت سے کام لیا ہے، اس نے یہ نہیں بتلایا ہے کہ احناف کے یہاں یہ فعل سخت گناہ اور حرام اور بہت بڑا جرم ہے، خود صاحب ہدایہ نے اس مسئلہ میں اسی سطر میں یہ بھی لکھا ہے۔ لکنہ یوجب عقوبةیعنی اس کو اس جرم میں سخت ترین سزا دی جائے گی۔

زنا پر شرعی حد اسی وقت واجب ہو گی جب زنا کا شرعی و اصطلاحی معنی پایا جائے گا، زنا کے وجود میں ذرا بھی شبہ ہوا تو پھر خواہ وہ فعل حرام ہو اور شرعی جرم قرار پائے مگر اس پر حد زنا نہیں لاگو کی جائے گی، اﷲ کے رسول کا ارشاد ہے کہ شبہات کی وجہ سے حدود کو رفع کرو، ہاں اس کو امام وقت سخت ترین سزا دے گا حتی کہ وہ اس کو اس جرم میں قتل بھی کر سکتا ہے۔

احناف نے حد والی سزا ایسے شخص پر اس لئے نافذ نہیں کی کہ حدیث کا حکم یہی ہے کہ حدود کو شبہات پیدا ہونے کی وجہ سے رفع کرو، خواہ زنا کے ثبوت میںشبہ ہو خواہ زنا کے معنی پائے جانے میں شبہ ہو۔بہر حال شبہات کی وجہ سے حدودی سزا نہیں لاگو کی جائے گی۔ زنا اس فعل کو کہتے ہیں جو بلا کسی عقد کسی عورت سے مباشرة فاحشہ کی شکل میں ظہور پذیر ہو، صورت مذکورہ میں محرمہ عورت سے نکاح ہوا ہے، اگرچہ یہ فعل حرام ہے مگر زنا کے معنی میں شبہ پیدا ہو گیا ہے اس وجہ سے حدوالی سزا ایسے شخص پر نافذ نہیں کی جائے گی ہاں چونکہ یہ فعل حرام ہے اور بہت برا جرم ہے تو اس لئے امام وقت ایسے شخص کو بخشے گا بھی نہیں بلکہ اس کو سخت سے سخت سزا دے گا، حتی کہ اسے قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔

فقہ حنفی کا یہ مسئلہ آنحضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کے افعال سے ماخوذ ہے، یہ احناف کے گھر کا گھڑا ہوا مسئلہ نہیں ہے۔

حضرت براءبن عاذب فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ میرے ماموں کہیں جا رہے ہیں، میں نے ان سے پوچھا آپ کہاں جا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے اپنی باپ کی منکوحہ سے نکاح کر لیا ہے، آنحضورﷺ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں اس کو قتل کر آں اور اس کا مال لے لوں۔

اگر محرمات سے نکاح کرنا زنا ہوتا یعنی زنا شرعی تو آنحضورﷺاس پر زنا کی جو شرعی حد ہے وہ جاری کرتے، مگر جب آپ ﷺنے ایسے شخص پر زنا کی حد جاری نہیں کی تو معلوم ہوا کہ زنا شرعی بھی نہیں ہے، اگرچہ بہت بڑا گناہ ہے۔

مصنف عبدالرزاق میں ہے۔عن ابن عباس من اتٰی ذات محرم فاقتلوہ یعنی حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جو شخص محرم عورت سے (نکاح کرے اور اس سے) جماع کرے تو اس کو قتل کر دو (ص۵ ۶ ۳ ج۷) ابن ماجہ میں یہ روایت حضرت ابن عباس سے مرفوعاً منقول ہے، اگرچہ اس کی سند ضعیف ہے۔

غرض احناف کا یہ مسئلہ کتاب و سنت کی روشنی میں ہے،

اور اس پر غیر مقلدوں کا اعتراض بلا وجہ محض جہالت ہے۔

ہر باطل نکاح کو زنا شرعی نہیں کہا جاتا اور نہ ہر باطل نکاح پر حد واجب ہوتی ہے، اﷲ کے رسول کا ارشاد ہے، جو عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، یہ بالکل صحیح حدیث ہے ایسے نکاح کو آپ نے تین دفعہ باطل کہکر اس کے بالکل باطل ہونے پر مہر لگا دی، مگر کسی کا یہ مذہب نہیں ہے کہ اگر کوئی عورت اس طرح کا نکاح کرے تو اس پر حد زنا لاگو کی جائے گی۔ حدزنا وہی واجب ہو گی جہاں زنا کا کامل معنی پایا جائے گا اور اس کے زنا ہونے میں کسی طرح کا کوئی شبہ نہ ہو گا۔

امام ابو حنیفہ رحمة اﷲ علیہ کی فقہی بصیرت کا یہی کمال ہے کہ ان کے سامنے شرعی مسئلہ کے تمام پہلو ہوتے ہیں اور اس بارے میں کتاب اللہ سنت رسول اللہ اور صحابہ کرام کے فیصلے یہ سب چیزیں ان کے سامنے ہوتی ہیں پھر وہ ایک فیصلہ فرماتے ہیں، اب جن کے علم و خرد کی رسائی وہاں تک نہیں ہو پاتی انہیں تو اعتراض سوجھتا ہے مگر ماہرین کتاب و سنت اور ائمہ شریعت امام ابو حنفیہ کے مدارک اجتہاد کے سامنے اپنا سر جھکا دیتے ہیں ،خواہ مسائل میں ان سے اتفاق ہو یا اختلاف ،ہمیں پھر یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ غیر مقلدین خود اپنی کتابوں سے ناواقف اور جاہل ہیں ،ان کی فقہ اہلحدیث والی کتابوں میں بھی یہی لکھا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر اپنے محرم سے نکاح کرے اور اس سے وطی کرے اس کی سزا یہ بھی ہے کہ اس کو امام تعزیر کرے گا اور اسے تعزیرً اقتل کر دے گا۔  نزل الابرارص ۸ ۹ ۲،کنز الحقائق ص ۲ ۰ ۱

اگر یہ فعل زنا حقیقی و شرعی ہوتا تو پھر اس پر صرف حد جاری کی جاتی ،حد کی متعین شکل ہے یا کوڑے مارنا یا رجم کرنا قتل کی سزا دینا حد شرعی نہیں ہے ،معلوم ہوا کہ غیر مقلد علما، بھی محرم کے ساتھ نکاح کو زنا شرعی نہیں سمجھتے ورنہ ایسے مجرم کی سزا ان کے یہاں صرف حد ہوتی قتل کرنا نہیں۔

چونکہ اس مسئلہ کو غیر مقلدین بہت اچھا لتے ہیں اس وجہ سے میں نے ذرا تفصیل سے کلام کیا تا کہ غیر مقلدوں کی جہالت واضح ہو جائے ۔

ناظرین یاد رکھیں چونکہ یہ مسئلہ بڑا نازک ہے اس وجہ سے احناف کی کتابوں میں حالات و زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے یہ بھی مذکو ر ہے کہ فتویٰ صاجین کے قول پر ہے یعنی ایسے شخص کو زنا کامر تکب قرار دیا جائے گا اور اس پر حد زنا ہی لگائی جائے گی۔ عینی میں صاف لکھا ہے ۔ لکن فی الخلاصة قال الفتویٰ علی قولھما ۔( ۹ ۴ ۲ج۵) یعنی خلاصہ میں مذکور ہے کہ فتویٰ صاجین کے قول پر ہے ۔

پمفلٹ والے نے فقہ حنفی سے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے پمفلٹ تو لکھ مارا مگر اسے اس کا پتہ ہی نہیں چل سکا کہ احناف کے یہاں مفتی بہ قول کون ہے ،مفتی بہ قول کو چھوڑ کر غیر مفتی بہ قول کو ذکر کرنا جاہلانہ حرکت ہے۔

۶ ایک مسئلہ یہ ذکر کیا ہے کہ ہدایہ میں ہے کہ جو شخص کسی عورت سے پاخانہ کی جگہ میں وطی کرے یا قوم لوط والا عمل کرے تو اس پر حد نہیں ہے۔

اس مسئلہ کے نقل کرنے میں بھی سخت خیانت کی ہے اس لئے کہ فلاحد علیہ عندابی حنفیہ کے بعد بھی ہدایہ ہے کہ ویعزر یعنی اس کو سزا دی جائے گی یہ لفظ بالکل اسی سطر میں اور اسی جگہ ہے مگر پمفلٹ والے غیر مقلد صاحب نے یہ لفظ چھوڑ کر کے اپنا ایمان برباد کیا۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر یہ عمل حد والی سزا کا ہوتا تو آپ ﷺسے حد والی سزا منقول ہوتی مگر، آپ ﷺ کا تو ارشا یہ منقول ہے اقتلو الفاعل والمفعول بہ یعنی جو ایسا کام کرے فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو، کیا اس سزا کو حد کہیں گے، یا اس کا تعلق تعزیر سے ہے یعنی اس سزا سے ہے جو امام اور حاکم وقت کی رائے پر محمول ہے؟ اور یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام کی رائے اس بارے میں الگ الگ رہی ہے کوئی کہتا ہے کہ اس کو جلا دیا جائے، کوئی کہتا ہے کہ اس کے اوپر دیوار گرا دی جائے گی، کوئی کہتا ہے کہ ایسے شخص کو اونچی جگہ سے نیچے گراکر اس پر پتھر برسایا جائے گا، غرض کہ زنا والی حد اگر متعین ہوتی تو صحابہ کرام کا اس مسئلہ میں اختلاف نہ ہوتا اور آنحضور ﷺسے بھی قتل وغیرہ کا حکم منقول نہ ہوتا۔ اسلئیے کہ زنا کی حد تو شریعت میںمتعین شکل ہے، اس وجہ سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ نے آنحضورﷺکے ارشادات اور صحابہ کرام کے فتووں کی روشنی میں یہ فرمایا کہ اگر اس جرم کا کوئی مرتکب ہوتا ہے تو اس کے بارے میں حاکم وقت فیصلہ کرے گا کہ اس کو کون سی سزا دی جائے حد کی سزا نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کو معاف کر دیا جائے گا۔

غیر مقلدین کو فقہ احناف کا پورا مسئلہ ہی معلوم نہیں یا معلوم ہے مگر فتنہ انگیزی چونکہ ان کا مقصود ہے اس وجہ سے پورا مسئلہ ذکر نہیں کرتے۔ عینی میں لکھا ہے۔

ولکنة یعذرو یسجن حتی یموت او یتوب ولو اعتاد اللوا طة قتلہ الا مام

یعنی ایسے کام کرنے والے کو سزا دی جائے گی اور اسے تازندگی قید میں رکھا جائے گا الا یہ کہ وہ توبہ کر لے اور اگر وہ فعل کا عادی ہے تو امام اس کو قتل کر دے گا۔

یہ ہے اس مسئلہ میں فقہ حنفی کا پورا مسئلہ مگر پمفلٹ والے نے خیانت کر کے اس کو نہایت مکروہ شکل میں پیش کیا ہے، دین و دیانت کے اپنے اس کردار و مظاہرہ پر غیر مقلدین ثواب دارین کی امید رکھتے ہیں۔

۷ ایک مسئلہ یہ بھی ذکر کیا ہےکہ ہدایہ میں ہے کہ جو چوپایہ سے وطی کرے اس اور پر حد نہیں ہے۔

تو کیا غیر مقلدین کے مذہب میں اس پر حد ہے؟ ذرا وہ اپنی کتابوں سے ایسے شخص پر حد کی سزا دکھلاویں۔ نزل الابرار میں لکھا ہے۔ویعزر من نکح بھیمة و یجوز للامام ان یقتلہ۔یعنی جو چوپایہ سے وطی کرے امام اس کی تعزیر کرے گا۔ اور اس کو قتل بھی کر سکتا ہے، اور یہی بات کنز الحقائق میں لکھی ہے، تو پھر ہدایہ اور آپ کی کتابوں کا مسئلہ الگ الگ ہوا یا ایک؟

اچھا ذرا غیر مقلدین وہ حدیث تو پیش کر دیں یا قرآن کی کوئی آیت جس سے ہدایہ کے مسئلہ کا غلط ہونا ثابت ہو۔

یہاں بھی پمفلٹ والے غیر مقلد نے خیانت سے کام لیا ہے اور ہدایہ کا پورا مسئلہ نہیں بیان کیا ہے، پورا مسئلہ یہ ہے الا انہ یعزر یعنی اس کی تعزیر ہو گی یعنی امام اپنی صواب دید سے جو مناسب سمجھے گا اس کو سزا دے گا۔

حضرت امام ابو حنیفہ جو فرماتے ہیں اور ہدایہ کا جو مسئلہ ہے وہی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہ سے منقول ہے۔ مصنف عبدالرزاق میں ہے۔

عن ابن عباس فی الذی یقع علی البھیمة قال لیس علیہ الحد (ص ۰ ۶ ۶ ۲ ج۷) یعنی حضرت عبداﷲ بن عباس کا فتوی یہ تھا کہ جو شخص جانوروں سے بد فعلی کرے اس پر حد نہیں ہے۔

غیر مقلدوں کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ ان کو یہ سمجھایا جائے کہ زنا شرعی کس کو کہا جاتا ہے اور حد شرعی کب واجب ہوتی ہے۔ اس کےلئے فقہی بصیرت کی ضرورت ہے اور غیر مقلدین کو یہ دولت گرا نما یہ حاصل نہیں اس وجہ سے میںصرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ اگر امام ابو حنیفہ نے اپنے فتوی کی بنیاد حضرت عبداﷲ بن عباس کے فتوی پر رکھی ہے تو غیر مقلدوں کو اعتراض کیوں ہے، کیا صحابی کے فتوی کی روشنی میں فتوی دینا حرام ہے؟ یا وہ اتنے بد دین ہو گئے ہیں کہ صحابی رسول ﷺ کے فتوی کا بھی مذاق اڑائیں گے؟

اس مسئلہ میں حضرت عطاءسے پوچھا گیا کہ اگر کوئی جانور سے بد فعلی کرے تو اس کا کیا حکم ہے، تو انہوں نے فرمایا، اﷲ تو بھولنے والا نہیں ہے اگر اس بارے میں شریعت کی متعین سزا ہوتی تو اﷲ اس کو نازل کرتا، البتہ یہ فعل ہے بہت برا تو جو برا ہے اس کو برا سمجھو،

مصنف ص۶ ۶ ۳ ج۷

دیکھئے حضرت عطاءجیسا جلیل القدر تابعی بھی یہی کہتا ہے کہ اس بارے میں کوئی حد شرعی نہیں ہے، چونکہ یہ عمل قبیح ہے اس لئے اس کا معاملہ امام کی صواب دید پر ہو گا وہ جیسی چاہے سزا دے، اسی کو تعزیر کہتے ہیں اور اسی کا بیان ہدایہ میں بھی ہے۔

آنحضورﷺکا ارشاد بھی جو اس بارے میں منقول ہے اس سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایسے شخص کو حد شرعی زنا والی سزا نہیں جاری کی جائے گی، آپ نے فرمایا کہ چوپایہ اور چوپایہ کے ساتھ جو فعل کرے دونوں کو قتل کر دو۔ مصنف ج۷ ص۴ ۶ ۲

غرض امام ابو حنیفہ کا اس مسئلہ میں جو فتوی ہے وہ پوری طرح عقل و نقل کی روشنی میں ہے، اور امام کی بے پناہ فقہی بصیرت کو اجاگر کرنے والا ہے، ہاں البتہ ان کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا جن کا مقصد محض اعتراض ہو اور جو علم اور بصیرت سے محروم ہوں۔

۸ ایک مسئلہ میں پمفلٹ میں یہ ذکر کیا ہے کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی عورت اپنی خوشی اور رضا مندی سے کسی بے وقوف یا بچے سے زنا کرائے تو نہ بیوقوف اور بچے پر حد ہے اور نہ عورت پر۔

اس مسئلہ پمفلٹ والے غیر مقلد صاحب نے ایک خیانت تو یہ کی ہے کہ ہدایہ میں مجنون کا لفظ ہے، اس کے معنی پاگل کے ہیں اس کا ترجمہ انہوں نے بیوقوف کیا ہے، معلوم نہیں مجنون کا ترجمہ بے وقوف کس لغت میں ہے، یا غیر مقلدوں کے یہاں مجنون کا ترجمہ بے وقوف ہوتا ہے۔؟ واﷲ اعلم بالصواب۔

اس مسئلہ پر اعتراض بھی غیر مقلدوں کی دانشمندی کی انتہا ہے، کیا پاگل اور بچے پر بھی شرعی احکام کا اجراءہوتا ہے؟ حدیث میں ہے کہ بچوں اور پاگلوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے کسی امام اور کسی محدث کے نزدیک بچے اور پاگل احکام شرعیہ کے مخاطب نہیں ہیں کہ ان پر حدود شرعیہ جاری ہوں، تو پھر اعتراض کیا؟ عورت پر اس لئے حد نہیں ہے کہ جنایت کاملہ جو حد کو واجب کرے نہیں پائی گئی اور زنا کا معنی پورے طور پر متحقق نہیں ہوا،پس بحکم حدیث شریف حدود کو شبہات سے دفع کرو، اس عورت پر بھی حد نہیں لگائی جائے گی، البتہ اس کو تعزیر کی جائےگی۔

براہ کرم غیر مقلدین وہ حدیث پیش کریں جس سے معلوم ہو کہ جس عورت کے ساتھ کوئی پاگل یا بچہ زنا کرے اس پر حد شرعی لگائی جائے گی؟ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے اور یقینا نہیں کر سکتے تو پھر فقہ حنفی اور ہدایہ کتاب کے خلاف یہ شورو ہنگامہ کیوں؟

غیر مقلدین کو غالباً اس کا بڑا شوق رہتا ہے کہ مسلمان مرد اور عورت پر حدود موقع بموقع ضرور نافذ کئے جائیں، حالانکہ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جہاں تک ہو سکے حدود کو دفع کرو، اور یہی وجہ ہے کہ ادنی شبہ سے بھی حدود مندفع ہو جاتے ہیں، احادیث کی روشنی میں امام ابو حنیفہ اس کا پورا لحاظ رکھتے ہیں کہ شرعی حدود سے جہاں تک ہو سکے مسلمانوں کو محفوظ رکھا جائے، رسول اکرم ﷺ کا یہی طریقہ تھا، اور مسلمانوں کےلئے آپ کی یہی تعلیم تھی، آنحضورﷺکے ان ارشادات کو ملاحظہ فرمایا جائے۔

حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آنحضورﷺکا ارشاد ہے کہ مسلمانوں سے جہاں تک ہو سکے حدود کو دفع کرو، ذرا بھی اس کا راستہ پاتو درگذر کرو، پھر آپﷺ نے فرمایا کہ حاکم معاف کرنے میں غلطی کرے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ سزا دینے میں غلطی کرے۔

حضرت علیؓ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ حدود کو دفع کرو، حضرت ابوہریرہ ؓکی روایت ہے کہ آنحضورﷺنے فرمایا کہ جہاں تک ہو سکے حدود کو دفع کرو، ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ذرا بھی گنجائش دیکھو تو حدود کو دفع کرو، حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اور حضرت علی اور حضرت ابن مسعود رضی اﷲ عنہما کا ارشاد اور مسلمانوں کو تاکید تھی کہ مسلمانوں سے قتل کو جہاں تک ہو سکے دفع کرو۔

حضرت ماعزؓ آپ ﷺکے پاس تشریف لائے اور کہا کہ مجھ سے زنا کا صدور ہو گیا ہے۔ آپ ﷺنے منہ پھیر لیا پھر انہوں نے کہا پھر آپ ﷺنے منہ پھیر لیا، پھر انہوں نے کہا، پھر آپﷺنے منہ پھیر لیا، چوتھی دفعہ جب انہوں نے کہا تو آپﷺنے فرمایا کہ تم نے بوسہ لیا ہو گا،تم نے چھوا ہو گا، غرض آپﷺنے حضرت ماعزؓپر حد جاری کرنے سے حتی الامکان پرہیز کیا اور جب حضرت ماعزؓکا اصرار بہت بڑھ گیا تب آپ ﷺنے ان پر حد نافذ کرنے کا حکم دیا۔

آپﷺ کے اس عمل سے معلوم ہوا کہ حدود کا جاری اور نافذ کرنا حالت مجبوری کی بات ہے ورنہ حتی الامکان حدود کو دفع ہی کیا جائے گا۔

فقہ حنفی میں اس کا بہت لحاظ رکھا گیا ہے، مگر فقہ حنفی کا یہی امتیاز اور ہنر اور احادیث کی روشنی میں احکام شرعیہ کا بیان غیر مقلدین کو برا لگا۔ اور انہوں نے حضرت ﷺ کے قول و عمل کو بالکل نظر انداز کر دیا اور فقہ حنفی کے خلاف اپنے دل کا بخار نکالا۔ فالی اﷲ المشتکی۔

Tuesday, 23 February 2016

TAQLEED🌟🌟

           ZARURI
     
               HAI

Quran e Paak me kam se kam 5⃣ cheezon me TAQLEED zaruri hai.


1⃣ Qura e  paak sahih,   Tajweed ke sath  padhne ke  liye ek to Qurra (Quran padhne ke experts)  aur aimma e tajweed ki taqleed laazmi hai.

 Huroof k makhaarij o sifaat (yani Quran ke Harfon ko kaise ada karen)   Mad,  Leen, Izhar, Ikhfa, Waqf, Ghunna waghairah ke  baare me na to hum in Aimma  se daleel puchh te hen aur na hi is fun (Ilm)  ko bid'at kehte hen

Balke har Alim ye kehta hai k jo shakhs in Qurra aur Tajweed ke Imam k muqarrar kiye huwe  Qawaaid k khilaf padhega wo gunahgaar hoga aur ghalat Quraan padhne se namaz kharaab hogi,

kya Huroof k Makhaarij waghairah k silsile me aap aur hum kisi Qaari se Bukhari Shareef ki daleel maangte hain ya iske baare me Bukhari Shareef me Ahaadees maujood hen❓❓❓


Yaqeenan nahi.
Sari dunya yahan TAQLEED hi kar rahi hai.

TAQLEED ⭐⭐

                IS

       MANDATORY

👉 there are 5⃣ instances in quraan pak where takleed is mandatory.

1⃣ To correctly recite quraan , takleed of qurra(quranic reciters) and aimma or imaam e tajweed is mandatory.

Surprisingly, we neither  ask aima or imams about the authenticity of correct pronunciation of arabic letters or makharij for e.g mad, leen, izhar,ikhfaa, gunna etc.  nor we call this a bidah(innovation ).


Rather every islamic scholar ( irrespective of any school of thought ) is of this opinion  that if anybody recites quraan without following these basic principles of tajweed, he is not only a sinner but his acceptance of  salah is also in question.

Have we ever approached any alim or islamic scholar about the authenticity of makharij or correct pronunciation of Arabic letters from Bukhari sharif or is there any hadees available in hadees sharif
❓❓❓❓❓❓❓❓❓

OF COURSE  NEVER..

MY DEAR BROTHERS AND SISTERS, WHOLE UMMAH IS DOING TAQLEED HERE.

Friday, 5 February 2016

نماز جنازہ مین اونچی آواز سے قرات کرنا


بیٹا: ابا جی!
باپ: جی بیٹا!
بیٹا:ابا جی !المغنی لابن قدامہ کا شمار معتبر کتا بوں میں ہے؟
باپ:جی بیٹا! فقہ حنبلی  کی یہ معتبر اور مشہور کتاب ہے ، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہ جو امام سنت ہین انہی  کے مسائل فقہیہ کو اس کتاب میں بهت تفصیل سے جمع کیا گیا ہے . ہمارے والدنا شیخ ابن باز نے اپنے وقت میں اپنے ادارہ سے بہت اہتمام سے اس کو شائع کرایا تها .
بیٹا: ابا جی!  اس کتاب میں یہ عبارت میری نگاہ سے گذری ہے.
ویسر القراءة والدعاء فی صلوة  الجماعة لا نعلم بین اهل العلم فیه خلافا (ج 1 ص 486)
ذرا اس کا ترجمہ کر دین .


باپ:بیٹا!  عبارت تو بهت صاف ہے، ترجمہ یہ ہے کہ نماز جنازہ میں قرات آہستہ کی جائیگی اور دعا بهی آہستہ پڑهی جائیگی.  اہل علم کے درمیان اس میں کوئ اختلاف ہو ، ہمیں اس کا پتہ نہیں ہے.
بیٹا:ابا جی!  اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز جنازہ میں جو کچھ پڑها جائےگا آہستہ پڑها جائےگا، یہ اجماعی مسئلہ ہے ، تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے .
باپ:جی بیٹا! البتہ شیعہ اور روافض نماز جنازہ میں اونچی آواز سے پڑهتے ہین ، ہم لوگ ان کو اہل علم میں سے شمار نہیں کرتے ہین .
بیٹا: مگر ابا جی! اب تو هماری جماعت کے علماء بهی اہل علم کے خلاف شیعوں اور رافضیوں کے مذہب کے مطابق فتوی دے رہے ہین ، اب ہماری جماعت کے علماء  کا فتوی یہ ہے کہ جنازہ کی نماز بآواز بلند پڑهی جائیگی ، فتاوی علماۓ اہل حدیث میں لکها ہے؛
دلائل کے لحاظ سے بلندآواز کے ساتھ جنازہ پڑهنا افضل اور قوی ہے (ج 5 ص 152)
اور فتاوی ثنائیہ میں مولانا حافظ احمد پٹوی لکهتے ہین:
جنازہ کی نماز میں سورہ فاتحہ اور اس کے بعد سورہ بآواز بلند پڑهنا جائز بلکہ سنت ہے . (ج 2ص56)
باپ: اب اگر همارے علماء کا اجتہاد بدل گیا ہو تو میں کہ نہیں سکتا ، مگر ہمارے پہلے کے تمام علماء آہستہ آواز ہی سے نماز جنازہ پڑها کرتے تهے .
بیٹا : کیا هماری جماعت میں شیعیت اور رافضیت کے جراثیم پیدا ہو گئے ہیں ابا جی!
باپ: پتہ نہیں بیٹا  !

(خمار سلفیت ص 322)

      تحفظ سنت کرناٹک
              الہند
                 🍃🍃🍃
‎زبیر علی زئی غیر مقلد کے 🌹
 جھوٹ اور تضادات‎


https://m.facebook.com/media/set/?set=a.641961972488061.1073741832.100000227916029&type=1


🌹فرقہ اہل حدیث کے محقق زبیر علی زئی صاحب کی علمی حیثیت

https://m.facebook.com/AhnafMediaServices/posts/744056932358218

🌹مسئلہ آمین بالسر


http://ahlehadeesaurangrez.blogspot.in/2015/04/masla-ameen.html?m=1


🌹تقلید مجتہد کے متعلق اسلاف کی شہادتیں Taqleed Mujtahid Aur Aslaf

http://ahlehadeesaurangrez.blogspot.in/2015/04/taqleed-mujtahid-aur-aslaf.html?m=1

🌹مکہ مدینہ والوں سے غیرمقلدین نام نہاد اہل حدیث(نفسی) کے اختلافات

http://raahedaleel.blogspot.in/2012/09/makka-madina-walon-se-gher-muqallideen.html?m=1


🌹مروجہ اونی یا سوتی جرابوں پر مسح جائز نہیں

http://www.ahnafmedia.com/video-quran/item/2768-oni-ya-soti-jarabon-par-masa-jaiz-nhe

🌹مسنون نماز جنازہ کے دلائل

http://salatulmuslim.blogspot.in/2015/06/blog-post_93.html?m=1



🌹ترک قراءت خلف الامام

http://ahlehadeesaurangrez.blogspot.in/2015/03/blog-post_13.html?m=1


🌹مرد اور عورت کی نماز میں فرق کے دلائل
http://raahedaleel.blogspot.in/2013/06/blog-post_4493.html?m=1


🌹غیر مقلدین کے تقلید سے متعلق پچاس (50) سوالات کے جوابات

http://amanullah101.blogspot.in/2014/09/50.html?m=1





🌹فرقہ جديد نام نہاد اهل حدیث کے وساوس واکاذیب

http://mdwaheedkhan.blogspot.in/2010/11/1-2-17-17-17-17-17-17-2-3-4-1720-5-900.html?m=1


دیوبند کی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
دیوبند تو ہر دور میں انمول رہا ہے . . . . !!

                        🍃🍃🍃

Saturday, 3 October 2015

The Connection of the School of Abū Ḥanīfah al-Nu‘mān with ‘Abdullāh Ibn Mas‘ūd Abū ‘Abd 'l-Raḥmān

علاقة مذهب أبي حنيفة النعمان بعبد الله ابن مسعود أبي عبد الرحمان

The Connection of the School of Abū Ḥanīfah al-Nu'mān
with 'Abdullāh Ibn Mas'ūd Abū 'Abd 'l-Raḥmān


Imām Abū Ḥanīfah's chain of knowledge is as follows:


Imām Abū Ḥanīfah
|
Ḥammād Ibn Abī Sulaymān
|
Ibrahīm al-Nakha'ī
|
'Alqamah Ibn Qays
|
'Abdullāh Ibn Mas'ūd
|
Rasūlullāh ﷺ


1. Imām Abū Ḥanīfah al-Nu'mān Ibn Thābit: he took over the seat of
teaching in Kūfā after his teacher Ḥammād Ibn Abī Sulaymān passed
away, and was recognised as his main student.[1]

2. Ḥammād Ibn Abī Sulaymān: he was the most learned of the students of
Ibrāhīm al-Nakha'ī and the most noble.[2]

3. Ibrāhīm al-Nakha'ī: he was born into a family of Scholars, he
succeeded 'Alqamah Ibn Qays, his maternal uncle.[3] He was also
regarded as those who were most knowledgeable in regards to opinions
and views of 'Abdullāh Ibn Mas'ūd.[4]

4. 'Alqamah Ibn Qays: he was a highly recognised student of 'Abdullāh
Ibn Mas'ūd to the extent that he was regarded as the closest of the
people in terms of attributes, conduct and habit, to 'Abdullāh Ibn
Mas'ūd.[5]

5. He is 'Abdullāh Ibn Mas'ūd (May Allāh be pleased with him), he was
a noteable ṣaḥābī (companion) of the Messenger of Allāh ﷺ and died in
the year 33 or 34 ḥijrī. He has many outstanding virtues which would
be far too lengthy to mention here. It suffices to say that there was
not a field that he himself did not excel in, this is because of his
attachment to the Messenger ﷺ and always being in close proximity to
him; learning from him, helping him [doing his khidmah], asking
questions related to the Dīn to the extent that even onlookers would
think that he was part of the Ahl 'l-Bayt [The Messenger's ﷺ family].

Imām Shams 'l-Dīn al-Dhahabī writes in his Siyar:


وأخرج البخاري والنسائي من حديث أبي موسى قال: قدمت أنا وأخي من اليمن،
فمكثنا حينا، وما نحسب ابن مسعود وأمه إلا من أهل بيت النبي - صلى الله
عليه وسلم - لكثرة دخولهم وخروجهم عليه .

'(Imām) al-Bukhārī and (Imām) al-Nasā'ī narrated from a narration of
Abū Mūsā that he said: 'Me and my brother came from Yemen [to Madīnah]
and stayed for sometime, we were then led to believe that Ibn Mas'ūd
and his mother were part of the household of the Prophet ﷺ due to
their constant going in and out [from the house]'.[6]

He goes on to narrate further:


منصور والأعمش: عن أبي وائل قال: كنت مع حذيفة، فجاء ابن مسعود، فقال
حذيفة: إن أشبه الناس هديا ودلا وقضاء وخطبة برسول الله - صلى الله عليه
وسلم - من حين يخرج من بيته، إلى أن يرجع، لا أدري ما يصنع في أهله

'Manṣūr and al-A'mash [both] narrate from Abū Wā'il that he said we
were with Ḥudhayfah while Ibn Mas'ūd went by, so Ḥudhayfah said
[regarding Ibn Mas'ūd]: 'Verily, [he was] the closest of the people to
the Messenger of Allāh ﷺ in terms of conduct, habit, judgement and
speech, until he went in his home [after which we did not know]'.[7]


'Abdullāh Ibn Mas'ūd - The Narrator of Ḥadīth


عن حذيفة قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال إني لا أدري
ما قدر بقائي فيكم فاقتدوا باللذين من بعدي وأشار إلى أبي بكر وعمر
واهتدوا بهدي عمار وما حدثكم ابن مسعود فصدقوه هذا حديث حسن وروى إبراهيم
بن سعد هذا الحديث عن سفيان الثوري عن عبد الملك بن عمير عن هلال مولى
ربعي عن ربعي عن حذيفة عن النبي صلى الله عليه وسلم نحوه وقد روى سالم
المرادي الكوفي عن عمرو بن هرم عن ربعي بن حراش عن حذيفة عن النبي صلى
الله عليه وسلم نحو هذا

From Ḥudhayfah that he said: 'We were sitting with the Prophet ﷺ and
he said: 'I do not know how long I will be amongst you, so stick to
the two after me,' and he signalled towards Abu Bakr and 'Umar, 'be
guided through the example of 'Ammār and whatever Ibn Mas'ūd narrates
to you believe it [accept it]'.[8] [Imām al-Tirmidhī said] This is a
ḥasan ḥadīth, Ibrāhīm Ibn Sa'd narrates this ḥadīth from Suyān
al-Thawrī from 'Abd 'l-Mālik Ibn 'Umayr from Hilāl the Mawlā of Rib'ī
from Rib'ī from Ḥudhayfah from the Prophet ﷺ similar to the above.
Sālim al-Murādī al-Kūfī also narrated the same from 'Amr Ibn Harim
from Rib'ī Ibn Ḥirāsh from Ḥudhayfah from Prophet

🌹JUMAH🌹

There is a special day in Islam which Allah Ta'ala has singled out for blessings which are not to be found in any other days. This day is Friday, to which Allah guided the Muslims and from which He led the Jews and Christians astray.

Narrated Abu Huraira:

I heard Allah's Apostle (Sallallahu Alaihi Wasallam) saying, "We (Muslims) are the last (to come) but (will be) the foremost on the Day of Resurrection though the former nations were given the Holy Scriptures before us. And this was their day (Friday) the celebration of which was made compulsory for them but they differed about it. So Allah gave us the guidance for it (Friday) and all the other people are behind us in this respect: the Jews' (holy day is) tomorrow (i.e. Saturday) and the Christians' (is) the day after tomorrow (i.e. Sunday)."
(Bukhari Volume 2, Book 13, Number 1)

Abu Huraira reported Allah's Messenger (may peace be upon him) as saying: We who are the last shall be the first on the Day of Resurrection, except that every Ummah was given the Book before us and we were given it after them. It was this day which Allah prescribed for us and guided us to it and the people came after us with regard to it, the Jews observing the next day and the Christians the day following that. (Muslim, Book 004, Number 1858-1863)

It is the day (Friday) which Allah chose from among all the days of the week, just as He chose Ramadan from among the months of the year and Laylat al-Qadr from among all the nights, and Makkah from among all places on earth, and Muhammad (Sallallahu Alaihi Wasallam) from all of mankind.

Apart from this, Many special events happened during this day like, Adam (Alaihis salam) was created, entered into Jannah and also when he was taken out from it, and Qiyamah will take place. (Al kutub As sitta, Muslim Chapter: Excellence of Friday Pg.811- Tirmidhi Chapter: Jumu'ah pg. 1692) (Ibn Maajah, 1084).
              🍃🍃🍃