Imam Abu Haneefa Rah

Wednesday, 18 January 2017

صدقہ کا بکرا ۱

حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے امداد الفتاوی مین جان کے بدلے جان کی غرض سے جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اسے ناجائز لکھا ہے اس پر ایک مفتی صاحب نے اعتراض کیا.
اعترض مع جواب کے رقم کیا جاتاہے


مگر نظرا الی القواعدالکلیة الشرعية فى نفسه اباحت دارد    كے بعد  چند عوارض کی بنیاد پر عدم جواز کا یا اس کے میتہ ہونے کا حکم کیسے لگا یا جا سکتا ہے  کیا ہر امر مباح کو  عوارض کی وجہ سے ناجائز کہدیا جاےگا   آگے حضرت نے لکھا ہے کہ یہ امر غیر قیاسی ہے حالانکہ اس کو عقیقہ پر بآسانی قیاس کیا جاسکتا ہے  دمه بدمه لحمه بلحمه  الخ كا كيا مطلب  ہے اگر یہ عمل خیر القرون میں ہوتا تو قیاس کی ضرورت ہی نہیں تھی
الجواب وباللہ التوفیق
حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم

حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے جو لکھا ہے وہ مدلل ہی ہے آپ بغور ملاحظہ فرمائین
حضرت فرمارہے ہین کہ خیر القرون مین اس کی نظیر نہین ہے لہذا فی نفسہ مباح ہے لیکن عوارض کی بنیاد پر مین اسے ناجائز کہتا ہون اس لیے کہ لوگ غلط عقیدے کے ساتھ ذبح کرتے ہین اور عقیدہ غلط ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر ان سے کہا جاے کہ آپ جانور کے بدلے رقم دیدین تو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے
اب آپ کا اشکال یہ ہیکہ کیا عوارض کی بناء پر ہم ہر مباح چیز کو ناجائز اور میتہ قرار دیدین گے???
تو جواب یہ ہیکہ اگر عوارض اس طرح کے ہوں جو غلط عقائد سے جڑے ہون ان کی بناء پر اسے ناجائز ہی کہا جائیگا
مین ایک مثال پیش کر رہا ہوں
علماء کا اس بات پر اتفاق ہیکہ اگر کوئ جانور غیر اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ذبح کیا جاے اگرچہ اسے اللہ کا نام لے کر ہی کیوں نہ ذبح کیا گیا ہو تو یہ مردار ہے اس کا کھانا مردار کا کھاناہے جیسے آج کل بزرگوں کے نام پر ذبح کیا جاتا ہے اور ان کی خوشنودی مقصود ہوتی ہے
بیضاوی کی عبارت ہے
فکل مانودی علیہ بغیر اسم اللہ فھو حرام وان ذبح باسم اللہ تعالی حیث اجمع العلماء لو ان مسلما ذبح ذبیحہ وقصد بذبحہ التقرب الی غیر اللہ صار مرتدا وذبیحتہ ذبیحت مرتد

حالاں کہ یہاں ایک مباح کام کیا گیا ہے محض جانور ذبح کیا گیا ہے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہے لیکن عارض  کی بناء پر سارے علماء متفق ہین کہ چوں کہ مقصد تقرب الی غیر اللہ تھا لہذا یہ مردار ہے.
کیا آپ یہاں یہ فرمائین گے کہ اس کو باسانی عقیقہ پر قیاس کیا جاسکتا ہے ?????
ایک اور اس سے بھی زیادہ واضح  مثال لیجیے
علامہ شامی تو یہاں تک لکھ گیے ہین کہ اگر کوئ کسی بڑی شخصیت کی آمد پر جانور ذبح کرتا ہے اور مقصد محض خون بہاکر آنے والے  عزت افزائ ہے تو یہ بھی مردار ہے
عبارت ملاحظہ فرمائین
ذبح لقدوم الامیر ونحوہ کواحد من العظماء یحرم لانہ اھل بہ لغیر اللہ ولو ذکر اسم اللہ واقر ہ الشامی
در مختار کتاب الذبائح ج 5 ص 214

کیا آپ یہاں بھی یہی فرمائین گے کہ باسانی عقیقہ پر اسے قیاس کیا جاسکتا تھا?????

علمی تنگی ضرور ہے لیکن اس علمی تنگی کا ازالہ یہ نہین ہے کہ ہم حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کو مشورہ دین کہ عقیقہ پر باسانی قیاس کیا جاسکتا تھا
یا دارالعلوم دیوبند کے کسی ایسے فتوی پر تبصرہ کرین جو جمہور امت کا مسلک ہو
ھذاماعندی واللہ اعلم بالصواب
کتبہ عیسی زاید قاسمی

No comments:

Post a Comment