Imam Abu Haneefa Rah

Wednesday, 18 January 2017

صدقہ کا بکرا ۲

صحتیابی کے لیے ذبح کیے جانے والے جانور کو عقیقہ یا قربانی پر قیاس نہ کرنے کی وجہ
مفتی صاحب، کسی کتاب میں، غالباً راہ سنت میں یہ پڑھنا یاد آتا ہے کے جس بات کی وجہ خیرالقرون میں رہی ہو اور اس کے باوجود اس معاملہ میں اس وقت کوئی قیاس نہ کیا گیا ہو تو اب اس معاملہ میں کوئی قیاس کرنا نا درست ہے۔ مسئلہ ھذا میں اصل کسی کا صحتیاب ہونا ہے اور یہ بات خیرالقرون میں بھی ضرور ہوتی تھی اور اس وقت اس کو عقیقہ پر قیاس نہیں کیا گیا تو اب ایسا قیاس کیسے درست ہوگا۔

کتاب میں اہل بدعات کے ایسے قیاسات کو اپنی منُگھڑت بدعات کے لئے دلیل بنانے پر رد میں یہ لکھا جانا یاد پڑتا ہے۔

اوپر لکھی بات اگر صحیح نہ ہو تو رہنمائی فرمائیں ۔
الجواب وباللہ التوفیق
جی آپ بجا فرمارہے ہیں راہ سنت میں حضرت مولانا سر فراز خان صاحب صفدر علیہ الرحمہ نے مختلف حوالوں سے یہ بات لکھی ہیکہ وہ امور جن کے دواعی اسباب ومحرکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے وقت موجود تھے ایسے امور میں قیاس واجتہاد جائز نہین ہے  اجتہاد اور قیاس صرف ان امور اور ان مسائل مین حق اور صحیح ہے جن کے دواعی اسباب ومحرکات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظہور پذیر ہوے
(راہ سنت ص 68)
اور آپ کی یہ بات بھی بظاہر معقول ہیکہ خیر القرون مین بھی لوگ بیمار ہوتے تھے لیکن صحتیابی کے لیے جانور ذبح نہین کیے جاتے تھے نہ کسی نے صحتیابی کے لیے جانور ذبح کرنے کو عقیقہ پر قیاس کیا
اسی لیے حضرت تھانوی علیہ الرحمہ اور دیگر اہل علم نے اسے بدعت قرار دیا ہے
حضرت فرماتے ہین:
بیمار کے لیے بکرا ذبح کرنا اس مین فساد عقیدہ کا شبہ ہے کیوں کہ مقصود اراقتہ الدم ہوتا ہے جو کہ فدیہ ہے اور ایسے موقع پر یہ منقول نہین اس لیے بدعت ہے اور اگر صدقہ کی تاویل کی جاے تو اتنا گوشت یا غلہ یا نقد دینے مین کیوں تسلی نہین ہوتی
ملفوظات حکیم الامت جلد 26
 امداد الفتاوی مین ہے
چوں کہ مقصود فدیہ ہوتا ہے اور ذبح کی یہ غرض صرف عقیقہ مین ثابت ہے اور جگہ ثابت نہین اس لیے یہ طریقہ بدعت ہے
امداد الفتاوی ج5 ص 306
احسن الفتاوی مین ہے
آفات وبیماری سے بچنے کے لیے صدقہ وخیرات کی ترغیب آئ ہے مگر عوام کا اعتقاد اس بارے میں یہ ہوگیا ہے کہ کسی جانور کا ذبح کرنا ہی ضروری ہے جان کو جان کا بدلہ سمجھتے ہین شریعت مین اس کا کوئ ثبوت نہین یہ عوام کی خود ساختہ بدعت ہے اگر یہ عقیدہ نہ رکھتا ہو تو بھی اس مین چوں کہ عقیدے اور بدعت کی تائید ہے لہذانا جائز ہے اور کسی قسم کا صدقہ وخیرات کردے شریعت مین قربانی اور عقیقہ کے سوا اور کہین بھی بکرے کا ذبح کرنا ثابت نہین ہے یہ غلط عقیدہ اچھے اچھے دیندارلوگوں مین بھی پایا جاتا ہے اس لیے علماء پر لازم ہے کہ اس کی اصلاح پر توجہ دین اور جن مدارس دینیہ مین اس قسم کے بکرے دیے جاتے ہین ان کو ہر گز قبول نہ کرین علماء کی چشم پوشی اور ایسے بکروں کو قبول کر لینے سے اس گمراہی کی تائید ہوتی ہے
احسن الفتاوی ج1 ص 367

نیز  اس مسئلہ کو قربانی یا عقیقہ پر اس لیے بھی قیاس نہین کیا جاسکتا کیوں کہ  قیاس کرنے کی جو شرائط ہین ان مین سے ایک شرط یہ بھی ہیکہ جس مسئلہ پر قیاس کیا جارہاہے وہ غیر قیاسی نہ ہو اگر وہ خود غیر قیاسی ہوگا تو اس پر کسی دوسرے مسئلہ کو قیاس نہین کیا جاسکتا چنانچہ علامہ سرخسی اور علامہ بزدوی نے قیاس کے صحیح ہونے کے لیے پانچ شرطین بیان کی ہین ان مین سے دوسری شرط یہی ہےکہ مقیس علیہ خلاف قیاس نہ ہو
والثانی آن لا یکون معدولا عن القیاس
اصول السرخسی 2\ 159 اصول البزدوی 1\ 255

حضرت تھانوی علیہ الرحمہ نے یہی لکھا ہیکہ جان کے بدلے جان دینا امر غیر قیاسی ہے جس پر کسی اور مسئلہ کو قیاس نہین کیا جاسکتا اس کے لیے نص کی ضرورت ہے اور نص ہے نہین لہذااس پر قیاس کرکے دوسرے موقع پر اسے متعدی نہین کیا جاسکتا.
ھذا ماعندی واللہ اعلم بالصواب
کتبہ عیسی زاہد قاسمی

No comments:

Post a Comment